17 جولائی 2026 - 17:24
حصۂ اول اسرائیل نے ایران-امریکہ مذاکرات میں مداخلت کی / ہم ایرانی نظام بدلنے کے لئے فوج بھیجنے والے نہیں ہیں

امریکہ کے نائب صدر نے خبردار کیا کہ اسرائیل امریکہ میں رائے عامہ رائے کی جنگ ہار رہا ہے اور اشارہ کیا کہ تل ابیب کی جانب سے غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم نے ایران کے ساتھ اس کے مذاکراتی عمل کو نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے "جو روگن (Joe [Joseph James] Rogan Jr)" کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی نائب صدر "مائیک پینس (Mike Pence)" جیسے سیاست دان ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں کیونکہ "وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ فوجی مہم ہمیشہ کے لئے جاری رہے! لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟؛ ان میں سے کچھ چاہتے ہیں کہ ہم ایران کا مکمل نظام تبدیل کر دیں لیکن ہم یہ مہم سر کرنے کے لئے فوج نہیں بھیجیں گے۔"

وینس نے مزید واضح کیا: "ہم ایران کا نظام تبدیل کرنے کے لئے ایک لاکھ 50 ہزار زمینی فوج نہیں بھیجیں گے۔"

وینس نے زور دیا: "بہرحال، ہم محض فوج نہیں بھیجیں گے۔"

امریکہ کے نائب صدر نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایران پر بمباری کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا اور اس تنازعے کے حل کے لئے سفارت کاری بھی ضروری ہے۔

امریکہ کے نائب صدر نے کہا: اسرائیل ریاستہائے متحدہ میں "رائے عامہ کی جنگ ہار رہا ہے اور امریکی صدر نے بھی عوامی سطح پر ایسے ہی بیانات دیئے ہیں کہ اسرائیل امریکہ میں ماضی کی طرح مقبول نہیں ہے بلکہ اسے مخالفتوں کا سامنا ہے۔

وینس نے امریکی فیصلہ سازی میں غیر ملکی مداخلت کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ جب غیر ملکی حکومتیں اکثر امریکی پالیسیاں تشکیل دینے کی کوشش کرتی ہیں، تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب امریکی رہنما غیر ملکی اثر و رسوخ کو "اپنے فیصلوں پر اثر انداز" ہونے دیتے ہیں۔

وینس نے اپنی حالیہ سفارتی کوششوں کے بارے میں بات کی اور اپنی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لئے ایک خاص دباؤ کی طرف اشارہ کیا۔

وینس نے ایران کے ساتھ اپنی مذاکرات کے بارے میں کہا: "اس معاہدے کو کمزور کرنے کے لئے ایک حقیقی غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم چلائی جاتی رہی ہے اور ان کوششوں کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے یہ وہ معاہدہ تھا جس کے حصول کے لئے میں کوشش کر رہا تھا۔"

وینس نے اپنی داخلی ترجیحات پر زور دیتے ہوئے مزید کہا: "میں پہلے امریکی عوام کا نمائندہ ہوں اور یہی وہ طریقہ ہے جسے میں نے اپنانے کی کوشش کی ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha